Subscribe Us

Hazrat Yaqub As

 

حضرت یعقوب علیہ السّلام

تحریر۔پیر فاروق بہاوالحق شاہ

اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی حضرت یعقوب علیہ السلام کو ایسے اعزازات حاصل تھے جو آپ سے قبل کسی نبی کو حاصل نہ تھے۔اپ خود بھی نبی تھے۔اپکے والد اور دادا بھی نبی اور اپکے بیٹے بھی نبی تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السّلام، حضرت اسحاق علیہ السّلام کے بیٹے، حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے پوتے اور حضرت یوسف علیہ السّلام کے والد ہیں،یوں انبیائے کرامؑ کے مبارک سلسلے میں آپؑ کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ آپؑ کے دادا اور والد نبی ہیں، تو خود بھی اس منصب پر فائز ہوئے اور صاحب زادے کو بھی اللہ تعالیٰ نے نبوّت عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے آپؑ کی ولادت کی خوش خبری،حضرت ابراہیم علیہ السّلام کو آپؑ کے والد حضرت اسحاق علیہ السّلام کی ولادت کی اطلاع کے ساتھ دی تھی۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے”پھر ہم نے اُنھیں (ابراہیمؑ کو) اسحاقؑ کی اور اسحاقؑ کے بعد یعقوبؑ کی خوش خبری دی۔“ (سورہ ہود71:)ایک اور جگہ ارشاد فرمایا”اور ہم نے(ابراہیمؑ) کو اسحاق ؑ (جیسا بیٹا) اور یعقوبؑ (جیسا پوتا) عطا کیا اور سب کو ہدایت دی۔“ (سورہ? انعام84:)حضرت یعقوبؑ کا ایک اور نام  ”اسرائیل‘ بھی‘ تھا، اسی لیے آپؑ کی اولاد”بنی اسرائیل“ کہلاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوبؑ کو یہ فضیلت بھی عطا فرمائی کہ بنی اسرائیل میں مبعوث ہونے والے تمام پیغمبر آپؑ ہی کی نسل میں سے ہیں۔

قرانِ کریم میں ذکر

قرآنِ کریم  کی16آیات میں حضرت یعقوبؑ کا اُن کے نام ”یعقوب“ کے ساتھ ذکر فرمایا گیا ہے۔اس کی تفصیل یوں ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیات132، 133، 136، 140، سورہ آلِ عمران کی آیت84، سورۃ النساء کی آیت163، سورہ انعام کی آیت84، سورہ ہود کی آیت71، سورہ? یوسف کی آیات6، 38، 68میں، سورہ مریم کی آیات6، 49، سورہ الانبیاء کی آیت72، سورۃ العنکبوت کی آیت27 اور سورہ ص کی آیت45میں آپؑ کا ذکر کیا گیا ہے۔

مُلکِ شام سے ہجرت

قصص الانبیاء کی مختلف کتب میں حضرت یعقوب کی ہجرت کے واقعات مختلف انداز میں تحریر ہیں میں نے ان سب کا خلاصہ مختصر انداز میں تحریر کیا ہے۔حضرت اسحاقؑ علیہ السلام کو اللہ تعالی نے دو جڑواں بیٹے،”محیص“ اور ”یعقوبؑ“ عطا فرمائے تھے۔۔ حضرت اسحاق  کو قدرتی طور اپنے بڑے بیٹے سے قدرے زیادہ محبّت تھی، جب کہ آپکی اہلیہ کو  یعقوبؑ سے  زیادہ محبت تھی۔ روایت میں ہے کہ ایک دن حضرت اسحاقؑ نے بڑے بیٹے سے شکار کا گوشت کھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ محیص والد کی خواہش پر فوراً شکار کے لیے چلا گیا، لیکن اسی اثناء میں والدہ نے حضرت یعقوبؑ سے کہا کہ”بکری ذبح کر کے والد کو کھانا پیش کردو اور اُن سے دُعائیں لے لو۔“ حضرت یعقوبؑ نے والدہ کے مشورے پر ایسا ہی کیا، لیکن جب بڑا بھائی گوشت بھون کر والد کی خدمت میں لے کر گیا اور اُسے حقیقت کا علم ہوا، تو وہ حضرت یعقوبؑ علیہ السلام کے خلاف اس کے دل میں رنجش پیدا ہوگء۔۔ والدہ نے جب یہ دیکھا، تو اُنہوں نے حضرت یعقوبؑ کو فوری طور پر اپنے ماموں کے پاس عراق کے شہر”حران“ جانے کی ہدایت کی۔ حضرت اسحاقؑ کو بھی محیص کی ناراضی کا علم تھا، لہٰذا اُنہوں نے بھی اس

 مشورے کی تائید کی اور پھر حضرت یعقوبؑ اُس روز رات کے پہلے پہر ماموں کے پاس جانے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔

خواب میں بشارت۔

حضرت یعقوبؑ علیہ السلام مسلسل چلتے رہے،سفر طے کرتے رہے اور پھر رات کے کسی پہر ایک گاو?ں کے باہر جنگل میں آرام کی غرض سے لیٹ گیے۔اپ پر نیند طاری ہوئی تو ایک خواب دیکھا۔ خواب میں دیکھتے ہیں کہ آسمان سے زمین تک ایک سیڑھی لگی ہوئی ہے، جس سے فرشتے اوپر چڑھ اور نیچے اُتر رہے ہیں۔ اسی دَوران اللہ تعالیٰ، حضرت یعقوبؑ سے مخاطب ہوتے ہیں کہ”مَیں تجھ کو عَن قریب برکت دوں گا اور تیری اولاد کو کثیر کر دوں گا۔ یہ زمین تیرے لیے کر دوں گا اور تیرے بعد تیری اولاد کے لیے بھی۔“جب حضرت یعقوبؑ نیند سے بیدار ہوئے، تو انتہائی خوش تھے۔ آپؑ نے منّت مانی کہ اگر وہ اپنے والدین کی طرف سلامتی کے ساتھ لَوٹ گئے، تو اُس جگہ، جہاں خواب نظر آیا تھا، اللہ عزّوجل کی عبادت کے لیے ایک گھر بنائیں گے۔ نیز، یہ منّت بھی مانی کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ اُنہیں دے گا، اُس کا دسواں حصّہ اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے۔ حضرت یعقوبؑ نے اُس پتھر کو تیل لگایا، جس پر سَر رکھ کر سوئے تھے تاکہ واپسی میں اُس کے ذریعے جگہ کی نشان دہی ہو سکے۔

 نکاح۔

حضرت یعقوب علیہ السلام کے نکاح کے متعلق بھی متعدد روایات ہیں۔بعض مورخین کے نزدیک آپکے دو نکاح اپنے ماموں کی دوبیٹیوں سے ہوے۔ بعض مورخین یہ  تحریر کرتے ہیں کہ حضرت یعقوبؑ کی چار بیویاں تھیں، جن سے اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو اولادِ کثیر سے نوازا۔ آپؑ کے12بیٹے اور ایک بیٹی ہوئی۔ بیٹوں کی شادیاں ہوئیں اور پھر اُن کی اولاد پھیلتے پھیلتے بارہ قبیلوں کی شکل اختیار کرگئی۔ چھوٹی بیوی، راحیل سے دو بیٹے پیدا ہوئے، ایک حضرت یوسف علیہ السّلام اور دوسرے بن یامین۔

مُلکِ شام واپسی کا حکم

حضرت یعقوبؑ علیہ السلام نے بیس برس تک اپنے  ماموں کے گھر قیام فرمایا، پھر اُنہیں اللہ تعالیٰ کی جانب سے واپسی کا حُکم ملا، تو اُنہوں نے اپنے اہل و عیّال کے ساتھ حران سے واپس جانے کی تیاریاں شروع کر دیں۔ بیٹیوں اور اُن کے بچّوں سے جدائی کے سبب ماموں اداس ہو گئے۔ اُنہوں نے حضرت یعقوبؑ کو روکنے کی کوشش کی، لیکن وہ تو حکمِ الہٰی کے پابند تھے۔ بالآخر ماموں نے بھیڑ بکریوں کے بڑے ریوڑ اور زادِ راہ ساتھ کر کے سب کو رخصت کیا

بڑے بھای سے  محیص سے ملاقات۔حضرت یعقوبؑ اپنے اہل و عیّال، مال مویشیوں کے ساتھ سفر کرتے ہوئے اُس مقام پر پہنچ گئے، جہاں اُن کے بڑے بھائی، محیص رہتے تھے۔ محیص نے جب اپنے علاقے میں ایک اجنبی قافلے کو دیکھا، تو بڑے متعجّب اور متجسّس ہوئے۔ اُنھوں نے اپنے لوگوں کو قافلے کی جانب روانہ کیا تاکہ حقیقتِ حال کا علم ہو سکے۔ لوگوں نے واپس آکر بتایا کہ”اس قافلے کا سربراہ، یعقوب(علیہ السّلام) ہیں۔محیص نے اپنے قبیلے کے چار سو لوگوں کو ساتھ لیا اور حضرت یعقوبؑ کی جانب چل پڑے۔ جب حضرت یعقوبؑ کو اپنے بڑے بھائی کے آنے کا علم ہوا، تو خوف زَدہ ہو گئے کہ جس بھائی کے ڈر سے وہ بیس برس والدین سے دُور رہے، آج اُن ہی سے سامنا ہونے جا رہا ہے۔ روایت میں ہے کہ اس موقعے پر اللہ تعالیٰ نے آپؑ کے پاس فرشتے بھیجے، جنہوں نے کہا کہ”آپؑ پریشان نہ ہوں، اللہ آپؑ کے ساتھ ہے، اپنے بھائی کے استقبال کی تیاری کریں۔“ اس پیغام سے اُنھیں بڑا حوصلہ ملا۔ اُنہوں نے بھائی کو تحفے میں دینے کے لیے اپنے ریوڑ میں سے خُوب صورت بھیڑ، بکریاں ساتھ لیں اور کچھ دُور جا کر بھائی کا استقبال کیا۔ بیس سال کی طویل جدائی نے محیص کے دِل سے رنجش اور نفرت ختم کر دی تھی۔ چھوٹے بھائی کی محبّت نے جوش مارا اور آگے بڑھ کر گلے لگا لیا۔ دونوں بھائیوں نے ایک دوسرے کو بوسہ دیا اور دیر تک ماضی کی یادوں میں کھوئے رہے۔

بیت المقدس کی تعمیر

اپنے بڑے بھای محیص کی معیت میں چند دن گزارنے کے بعد پھر رخت سفر باندھا،  اُن سے اجازت چاہی۔ محیص نے بہت سے تحفے، تحائف دے کر عزّت و احترام کے ساتھ چھوٹے بھائی کو رخصت کیا۔ حضرت یعقوبؑ کو اچھی طرح یاد تھا کہ بیس سال پہلے جب وہ اپنے ماموں کے پاس جا رہے تھے، تو اُنہوں نے منّت مانی تھی کہ اگر وہ اپنے والدین کے پاس سلامتی کے ساتھ لَوٹ گئے، تو جس جگہ خواب دیکھا تھا، وہاں اللہ کا گھر بنائیں گے۔ لہٰذا، وہ بیس سال پُرانے راستوں کو یاد کرتے ہوئے یروشلم کے قریب اس بستی تک پہنچ گئے، جس کے باہر اُنہوں نے قیام فرمایا تھا۔ بستی کے باہر خیمے نصب کر دیے گئے اور پھر حضرت یعقوبؑ نے اپنے بچّوں کے ساتھ اُس پتھر کی تلاش شروع کر دی، جس پر اُنہوں نے تیل لگایا تھا۔چوں کہ اللہ تعالیٰ کی مدد شاملِ حال تھی، سو جلد ہی وہ اُس پتھر کو ڈھونڈنے میں کام یاب ہو گئے۔ جس جگہ وہ پتھر نصب تھا، وہ بستی کے ایک شخص شخیم بن جمور کی ملکیت تھی۔ آپؑ نے ایک سو بھیڑوں کے بدلے اُس سے یہ جگہ خریدی اور پھر اپنے بیٹوں کے ساتھ مل کر وہاں ایک عبادت گاہ تعمیر کی۔یہی جگہ آج ”بیت المقدس“ کہلاتی ہے۔

اہلیہ کا انتقال

بیت المقدّس میں قیام کے دَوران حضرت یوسفؑ کی والدہ، حضرت راحیل ؑکے یہاں دوسرے بیٹے بن یامین کی پیدائش ہوئی، لیکن دَورانِ زچگی وہ انتقال کر گئیں۔ حضرت یعقوبؑ نے اُنھیں ”بیت اللحم“ میں سُپردِخاک کیا۔

بیت المقدس سے روانگی

حضرت یعقوبؑ کو اپنی بیوی، حضرت راحیلؑ کی وفات سے سخت صدمہ پہنچا اور وہ بیت المقدّس کی سکونت تَرک کر کے اپنے والد کے پاس حبرون چلے آئے۔ یہ وہی جگہ ہے، جہاں آپؑ کے دادا، حضرت ابراہیمؑ بھی سکونت پزیر تھے۔ اس دَوران بڑے بھائی، محیص بھی وہاں پہنچ چُکے تھے۔ حضرت اسحاقؑ نے دونوں بیٹوں کی موجودگی میں 180سال کی عُمر میں وفات پائی۔

اولاد کو وصیت

جب حضرت یعقوبؑ کا وقت وصال  نزدیک آیا تو آپؑ نے اپنے سب بیٹوں کو جمع کیا اور اُن سے پوچھا”میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟“ سب نے یک زبان ہو کر جواب دیا”اے ابّا جان! ہم سب اُس ربّ کی عبادت کریں گے، جو آپؑ کا اور آپ ؑکے آباؤاجداد ابراہیمؑ، اسماعیلؑ اور اسحاقؑ کا رب  ہے۔اس وصیت کا زکر قرآن مجید میں بھی ہے۔۔“ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے”بھلا جس وقت یعقوبؑ وفات پانے لگے، تو تم اُس وقت موجود تھے۔ جب اُنہوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ”میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟“ تو اُنہوں نے کہا کہ”آپؑ کے معبود اور آپؑ کے باپ،دادا ابراہیمؑ، اسماعیلؑ اور اسحاقؑ کے معبود کی عبادت کریں گے۔ جو معبودِ یکتا ہے اور ہم اس کے فرماں بردار رہیں گے۔“ (سورۃ البقرہ133:)اسی سورت کی آیت 132میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”اور اس بات کی ابراہیمؑ نے اپنے بیٹوں کو وصیّت کی اور یعقوبؑ نے بھی (اپنے بیٹوں کو) کہ اے میرے بیٹو! اللہ نے یہی دین تمہارے لیے منتخب فرمایا ہے، لہٰذا، تمہیں موت آئے، تو اسی حالت میں آئے کہ تم مسلمان ہو۔

وصال و تدفین

متقدمین و متاخرین نے آپکے وصال اور تدفین پر بھی خوب کلام کیا ہے۔تفسیرِ قرطبی میں مذکور ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے مِصر میں 24سال رہنے کے بعد وفات پائی اور وفات سے پہلے حضرت یوسف علیہ السّلام کو وصیّت فرمائی کہ”میری میّت میرے وطن بھیج کر والد، اسحاق علیہ السّلام کے پاس دفن کیا جائے۔“ سعید بن جبیرؒ نے فرمایا کہ حضرت یعقوب علیہ السّلام کی میّت کو لکڑی کے تابوت میں رکھ کر بیت المقدس منتقل کیا گیا۔ اسی وجہ سے عام یہود میں یہ رسم چل نکلی کہ وہ اپنے مُردوں کو دُور دُور سے بیت المقدّس لے جا کر دفن کرتے ہیں۔ وفات کے وقت حضرت یعقوب علیہ السّلام کی عُمر ایک سو سینتالیس سال تھی۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ حضرت یعقوب علیہ السّلام مع اپنی اولاد جب مِصر میں داخل ہوئے، تو اُن کی تعداد93 نفوس پر مشتمل تھی اور جب اُن ہی سے پھیلنے والے افراد حضرت موسیٰ علیہ السّلام کے ساتھ مِصر سے نکلے، تو اُن کی تعداد چھے لاکھ، ستّر ہزار تھی۔ (ملخص از تفاسیر)

Hazrat Yaqub As Hazrat Yaqub As Reviewed by Rizwan Malik on جون 03, 2021 Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.